حیرت انگیز انکشاف
“کیا واقعی؟” حیرت سے یہ جملہ کہتے ہوئے لاہور کے اچھرہ تھانے کے ایس ایچ او انسپیکٹر عبدالحئی کے ہاتھ سے قلم گر گیا۔ سنہ 1974 میں 10 اور 11 نومبر کی درمیانی رات ہونے والے اس مکالمے کے راوی احمد رضا قصوری، جو اس وقت قومی اسمبلی کے رکن اور تحریک استقلال کے سیکرٹری اطلاعات تھے، نے اپنی بات کو دوبارہ دہرایا۔
حملہ اور اس کے نتائج

اسی رات ایک قاتلانہ حملے میں قصوری اور ان کے اہل خانہ محفوظ رہے، لیکن ان کے والد نواب محمد احمد خان شدید زخمی ہوئے اور بعد میں جانبر نہ ہو سکے۔ پولیس کے سامنے جب قصوری سے سوال کیا گیا کہ وہ کس پر شبہ کرتے ہیں، تو انھوں نے براہ راست اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا نام لیا۔
قتل کا مقدمہ اور تاریخی پس منظر
قصوری نے اس واقعے کو قاتلانہ سازش قرار دیتے ہوئے پولیس کے سامنے بیان ریکارڈ کروایا اور ذوالفقار علی بھٹو کو اس قتل میں نامزد کر دیا۔ پنجاب پولیس کے اس وقت کے سربراہ راؤ عبدالرشید کے مطابق، احمد رضا قصوری کا مطالبہ تھا کہ ایف آئی آر میں بھٹو کا نام شامل کیا جائے، جسے تسلیم کر لیا گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی زندگی
ذوالفقار علی بھٹو، جو 5 جنوری 1928 کو سر شاہنواز بھٹو کے ہاں پیدا ہوئے، نے اپنی تعلیم بمبئی، برکلے، اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے حاصل کی اور بعد میں وکالت میں مہارت حاصل کی۔ 1958 میں جنرل ایوب خان نے انھیں وزیرِ تجارت مقرر کیا، اور بعد میں وہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ بھی بنے۔پیپلز پارٹی کا قیام اور اختلافات1967 میں بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، اور 1970 کے انتخابات میں مغربی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ تاہم، مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کی کامیابی کے باوجود، سیاسی کشیدگی بڑھتی گئی اور 1971 میں بنگلہ دیش وجود میں آ گیا۔اختلافات کی بنیاداحمد رضا قصوری اور بھٹو کے درمیان اختلافات اس وقت شدت اختیار کر گئے جب بھٹو نے 1971 کے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت سے انکار کیا اور دوسروں کو بھی شرکت سے روکا۔ قصوری نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور پارٹی سے اختلافات کے باعث تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کر لی۔قاتلانہ حملہ اور بھٹو کے سخت ردعمل4 جون 1974 کو قومی اسمبلی میں ایک خطاب کے دوران، جب قصوری نے بھٹو کے بیان کو چیلنج کیا، تو بھٹو نے شدید غصے میں آکر کہا کہ وہ قصوری کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ اسی تقریر کے کچھ ماہ بعد، نومبر میں قاتلانہ حملہ ہوا، جس میں قصوری محفوظ رہے، مگر ان کے والد قتل کر دیے گئے۔
مقدمہ، تحقیقات اور عدالتی کارروائی
حکومت نے اس قتل کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کیا، مگر رپورٹ کو منظر عام پر نہ لایا گیا۔ 1977 میں جب ضیاء الحق نے حکومت پر قبضہ کیا، تو قتل کا مقدمہ دوبارہ کھولا گیا، اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی۔ بھٹو کے وکلا نے مقدمے کی منتقلی کی درخواست دی، مگر مسترد کر دی گئی۔عدالتی فیصلہ اور سزا18 مارچ 1978 کو لاہور ہائیکورٹ نے بھٹو کو قتل کی سازش کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔ بعد میں سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا، اور 4 اپریل 1979 کو بھٹو کو پھانسی دے دی گئی
نتیجہ
یہ مقدمہ پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوا، جس نے سیاست، عدلیہ، اور طاقت کے کھیل کو نئے رخ دیے۔ آج بھی یہ بحث جاری ہے کہ آیا بھٹو واقعی مجرم تھے یا ایک سیاسی سازش کا شکار ہوئے۔