چند ہفتے قبل محمد اقبال نے اپنی بہن نسیمہ بی بی کے فیس بک اکاؤنٹ پر کچھ تصاویر دیکھیں، جن میں انہوں نے ایک شخص کے ساتھ اپنی شادی کا اعلان کیا تھا۔ یہ دیکھ کر محمد اقبال حیران رہ گئے کیونکہ ان کی بہن کچھ عرصے سے لاپتہ تھیں۔ ان کی گمشدگی کی رپورٹ متعلقہ تھانے میں درج کروائی گئی تھی، اور وہ ان کی خیریت کے لیے فکرمند تھے۔محمد اقبال کے مطابق، نسیمہ بی بی نے کچھ عرصہ قبل اپنے پہلے شوہر، محمد سفیر، سے طلاق لی تھی۔ طلاق کے بعد وہ گھر لوٹ آئی تھیں، لیکن کچھ دن بعد اچانک غائب ہو گئیں۔ پولیس نے انہیں اسلام آباد سے تلاش کر کے واپس لایا تھا۔ اس وقت نسیمہ بی بی نے بتایا تھا کہ وہ ایک شخص سے شادی کرنا چاہتی ہیں، لیکن چونکہ وہ عدت میں تھیں، اس لیے ان کے بھائی نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ عدت مکمل ہونے کے بعد شادی کریں۔
قتل کا انکشاف کیسے ہوا؟
محمد اقبال نے جب اپنی بہن کی سوشل میڈیا پر تصاویر دیکھیں تو انہیں تشویش لاحق ہوئی۔ انہوں نے پولیس کو اطلاع دی اور قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ پولیس نے سائبر کرائم سیل کی مدد سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر کا سراغ لگایا اور متعلقہ موبائل نمبر کے ڈیٹا کی مدد سے اس گھر تک پہنچ گئی جہاں نسیمہ بی بی موجود تھیں۔
پولیس کیسے قاتل تک پہنچی؟
جب پولیس اس مکان میں پہنچی تو وہاں بدبو بہت شدید تھی۔ جب پولیس نے مکان کے مکین سے بدبو کے متعلق پوچھا تو پہلے اس نے لاعلمی ظاہر کی، مگر شک کی بنیاد پر اسے اور مکان کے مالک کو تھانے لے جایا گیا۔ تفتیش کے دوران، ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنی بیوی کو دوپٹے سے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تھا۔
قتل کی وجہ اور لاش کو چھپانے کی کوشش
ملزم کے مطابق، اسے شک تھا کہ اس کی بیوی کے کسی اور مرد سے تعلقات تھے، جس پر دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ جھگڑے کے دوران، غصے میں آ کر اس نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔ قتل کے بعد، ملزم کو لاش ٹھکانے لگانے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ چونکہ وہ کرائے کے مکان کی اوپر کی منزل پر رہتا تھا، اس لیے لاش کو نیچے لے جانا ممکن نہیں تھا کیونکہ مالک مکان اور دیگر افراد دیکھ سکتے تھے۔ اسی وجہ سے، اس نے لاش کو ایک کپڑوں والی پیٹی میں چھپا دیا اور اس پر کپڑے ڈال دیے
پولیس کی تحقیقات اور شواہد
پولیس نے جائے وقوعہ سے آلہ قتل (دوپٹہ) برآمد کر لیا۔ ملزم کے ہاتھوں پر مقتولہ کے ناخنوں کے نشانات بھی پائے گئے۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق، موت کی وجہ دم گھٹنا بتائی گئی ہے، جبکہ فرانزک تجزیے کے لیے لاش کے نمونے لاہور بھیجے گئے ہیں۔
عدالتی کارروائی اور ملزم کا ماضی
ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اسے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ تفتیش کے دوران، ملزم نے مزید انکشافات کیے کہ اس کی پہلے بھی تین شادیاں ہو چکی تھیں، جن میں سے ایک بیوی فوت ہو چکی تھی اور دو کو وہ طلاق دے چکا تھا۔یہ واقعہ معاشرتی اور قانونی نظام پر کئی سوالات چھوڑتا ہے کہ خواتین کی زندگیوں کو کس طرح غیرمحفوظ بنا دیا جاتا ہے اور انہیں کس حد تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔