کراچی میں ایک پولیس افسر کو صدر مملکت آصف علی زرداری کے خلاف نازیبا پوسٹ کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ کارروائی سائبر کرائم قوانین کے تحت عمل میں لائی گئی، جس کے نتیجے میں پولیس افسر کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے۔
پولیس افسر کے خلاف مقدمہ درج

ذرائع کے مطابق اسٹیشن انویسٹی گیشن افسر (ایس آئی او) ابراہیم حیدری، ابرار شاہ، کے خلاف سکھن تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ مقدمہ اے ایس آئی یعقوب کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے اور اس میں پیکا ایکٹ کے تحت دفعات شامل کی گئی ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق، پولیس افسر ابرار شاہ نے 2 اپریل کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایسی پوسٹ کی تھی جس میں نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا تھا۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ اس پوسٹ سے نہ صرف اس کی بلکہ دیگر شہریوں کی بھی دل آزاری ہوئی۔
سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی روک تھام
حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے کے خلاف سخت اقدامات کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں، پیکا ایکٹ کے تحت کسی بھی فرد کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے جو کسی بھی شخصیت، ادارے یا عوام کے جذبات کو مجروح کرنے والا مواد شائع کرے۔
پیکا ایکٹ اور قانونی نتائج
پیکا ایکٹ (Prevention of Electronic Crimes Act) 2016 پاکستان میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کو، جو نفرت انگیز یا نازیبا مواد شیئر کرے، گرفتار کیا جا سکتا ہے اور اس پر جرمانہ یا قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
عوام میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام کو سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے شہریوں کو آگاہی فراہم کر رہے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کے غیر مناسب مواد کو پھیلانے سے گریز کریں تاکہ قانونی مسائل سے بچا جا سکے۔
نتیجہ
کراچی میں پولیس افسر کی گرفتاری ایک واضح مثال ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کی غیر ذمہ دارانہ پوسٹ کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں اور کسی بھی غیر اخلاقی یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے سے گریز کریں۔