ڈبلیو ٹی او میں مقدمہ دائر
بیجنگ چین نے امریکہ کی جانب سے عائد کردہ اضافی محصولات کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے 10 اپریل سے امریکی اشیا پر 34 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چین نے عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں امریکہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
چین کا سخت ردعمل
چینی وزارتِ تجارت کے مطابق یہ اقدام امریکہ کے جانب سے تجارتی ضوابط کی خلاف ورزی کے جواب میں کیا گیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ اس نے عالمی تجارتی تنظیم کے تنازعات کے تصفیے کے طریقہ کار کے تحت یہ مقدمہ دائر کیا ہے تاکہ امریکہ کی تجارتی پالیسیوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔چینی حکام کے مطابق اضافی محصولات 10 اپریل سے نافذ العمل ہوں گے اور اس کے تحت متعدد امریکی مصنوعات پر 34 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ چین نے 11 امریکی کمپنیوں کو غیر معتبر اداروں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے، جس سے ان کمپنیوں کے چین میں کاروبار کرنے کے امکانات مزید محدود ہو جائیں گے
آئی ایم ایف کا انتباہ
دوسری جانب، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے امریکی ٹیرف کو عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب عالمی معیشت پہلے ہی سست روی کا شکار ہے، امریکہ کی جانب سے اضافی تجارتی محصولات عائد کرنا عالمی تجارتی استحکام کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو عالمی معیشت کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
عالمی ردعمل
امریکہ کے اس تجارتی اقدام کے خلاف دیگر ممالک نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنے نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک امریکی مصنوعات پر 25 فیصد جوابی ٹیرف عائد کرے گا۔ انہوں نے امریکی صدر کے اقدامات کو “عالمی معیشت کے لیے خطرہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تجارتی جنگ اقتصادی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی امریکی ٹیرف کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے یہ اقدامات “ظالمانہ اور بے بنیاد” ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلے نہ صرف عالمی معیشت بلکہ خود امریکہ کی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔