پاکستان کے سابق ٹیسٹ فاسٹ باؤلر فاروق حمید 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی کرکٹ کے مداحوں اور ساتھی کھلاڑیوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
فاروق حمید کا شمار
فاروق حمید کا شمار پاکستان کے ان کرکٹرز میں ہوتا تھا جنہوں نے محدود مواقع ملنے کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے 1964ء میں میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں آسٹریلیا کے خلاف واحد ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ اگرچہ ان کا ٹیسٹ کیریئر مختصر رہا، لیکن فرسٹ کلاس کرکٹ میں انہوں نے اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کیا۔ انہوں نے 43 فرسٹ کلاس میچز میں 111 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کی باؤلنگ مہارت کا ثبوت ہے۔
فاروق حمید کے کیریئر پر ایک
فاروق حمید کے کرکٹ کیریئر پر نظر ڈالی جائے تو وہ ایک ایسے باؤلر تھے جنہیں مزید مواقع ملنے چاہیے تھے۔ ان کی تیز رفتاری اور درست لائن و لینتھ کی وجہ سے وہ کئی بیٹسمینوں کے لیے خطرہ بنے رہے۔ ان کی شاندار کارکردگی کے باوجود وہ صرف ایک ٹیسٹ تک محدود رہے، جو اس دور میں کرکٹ کے انتخابی عمل کی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
فاروق حمید کا کرکٹ سے لگاؤ
فاروق حمید کا کرکٹ سے لگاؤ صرف کھیل کے دوران ہی محدود نہیں رہا بلکہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کھیل کے ساتھ جڑے رہے۔ وہ نوجوان کرکٹرز کی رہنمائی کرتے رہے اور اپنے تجربات سے انہیں مستفید کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کی خدمات کو کرکٹ برادری ہمیشہ یاد رکھے گی۔
ان کا انتقال
ان کے انتقال پر کرکٹ کے حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پی سی بی سمیت مختلف سابق کرکٹرز اور ماہرینِ کرکٹ نے سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات جاری کیے اور ان کی کرکٹ خدمات کو سراہا۔ ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک محنتی اور باصلاحیت کھلاڑی تھے، جنہوں نے ہمیشہ ایمانداری اور لگن کے ساتھ کرکٹ کھیلی۔فاروق حمید کی رحلت پاکستان کرکٹ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ان کی باؤلنگ، کرکٹ کے لیے ان کا جذبہ، اور ان کی سادگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ کرکٹ شائقین ان کے نام کو ہمیشہ احترام سے یاد رکھیں گے اور ان کی خدمات کو سراہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبر عطا کرے۔