حالیہ دنوں میں لاہور کے ایک عوامی پارک میں یوگا کرنے سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ خواتین کو پارک میں یوگا کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہ ویڈیو ایک معروف پلاٹیز ٹرینر، عشا امجد نے شیئر کی، جو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) لاہور میں مقیم ہیں۔
عشا کے مطابق، وہ اپنی رہائش گاہ کے قریب ایک پارک میں یوگا کر رہی تھیں جب ایک اجنبی شخص نے مبینہ طور پر انہیں ہراساں کیا اور بعد میں سکیورٹی گارڈ نے انہیں پارک چھوڑنے کے لیے کہا۔ جب عشا نے اعتراض کیا اور گارڈ سے ضوابط کے بارے میں پوچھا، تو انہیں جواب دیا گیا کہ “یہاں اس کی اجازت نہیں ہے”۔ تاہم، پارک کے ضوابط میں کہیں بھی یوگا پر پابندی کا ذکر نہیں تھا۔
اس واقعے پر عشا نے سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی، جس پر ملا جلا ردعمل آیا۔ جہاں بہت سی خواتین نے ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا، وہیں انہیں آن لائن نفرت انگیز تبصروں اور دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
عشا کے مطابق، اس مسئلے کا سب سے پریشان کن پہلو سوشل میڈیا پر ہونے والا ردعمل تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ان کے اہلِ خانہ اور دوستوں نے مشورہ دیا کہ وہ منفی تبصرے نہ پڑھیں اور اس معاملے کو نظرانداز کریں۔ تاہم، انہوں نے ہمت نہ ہاری اور کچھ دیگر خواتین کے ساتھ دوبارہ اسی پارک میں ورزش کے لیے گئیں، لیکن ایک بار پھر انہیں وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے مختلف پارکس میں مردوں کے گروہ اکثر یوگا کرتے نظر آتے ہیں، مگر خواتین کے لیے یہ عمل کسی نہ کسی طرح غیر رسمی طور پر روکا جاتا ہے۔ اس طرح کے واقعات اس وسیع تر مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں خواتین کے لیے مخصوص غیر تحریری ضابطے بنا دیے جاتے ہیں، جو عوامی مقامات پر ان کی نقل و حرکت کو محدود کرتے ہیں۔
ڈی ایچ اے انتظامیہ سے جب اس معاملے پر رابطہ کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ پارک کے باہر آویزاں قوانین میں یوگا کی ممانعت کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے باوجود، عشا کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے: کیا یہ واقعی کوئی باضابطہ پابندی ہے، یا پھر خواتین کے لیے بنائے گئے غیر رسمی اور غیر منصفانہ اصولوں کا ایک اور مظہر؟