جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد صدر یون سک یول کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اقدام قرار دیا جا رہا ہے
عدالتی فیصلے کی تفصیلات
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جنوبی کوریا کی آئینی عدالت کے آٹھ ججز نے متفقہ طور پر صدر یون سک یول کے مواخذے کی توثیق کر دی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ صدر کا مارشل لاء نافذ کرنا اور فوج کو پارلیمنٹ میں بھیجنا ملکی آئین کی خلاف ورزی تھی۔عدالت کا کہنا تھا کہ صدر کی غیر آئینی اور غیر قانونی کارروائیاں ملکی جمہوریت کے لیے خطرہ تھیں، اور ان اقدامات نے حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ ججز نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یون سک یول نے فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، جو کہ ایک سنگین خلاف ورزی ہے۔
مارشل لاء کا پس منظر
جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول نے 3 دسمبر 2024 کو مختصر مدت کے لیے مارشل لاء نافذ کیا تھا، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل دیا۔ اپوزیشن نے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں صدر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ اگرچہ پہلی تحریک ناکام رہی، لیکن اپوزیشن اتحاد نے دوسری بار مواخذے کی قرارداد پیش کی، جو بالآخر منظور کر لی گئی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں صدر کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔
عوام اور سیاسی تجزیہ کاروں کا ردعمل
اس تاریخی عدالتی فیصلے پر عوام اور سیاسی تجزیہ کاروں نے مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ جمہوریت کے حامی افراد نے عدالتی فیصلے کو ایک مثبت قدم قرار دیا، جبکہ صدر یون سک یول کے حامیوں نے اس فیصلے کو سیاسی انتقام سے تعبیر کیا۔سیاسی ماہرین کے مطابق، جنوبی کوریا میں جمہوریت کو درپیش چیلنجز کے باوجود یہ عدالتی فیصلہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرے گا۔ اس فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں، چاہے وہ ملک کا صدر ہی کیوں نہ ہو۔
جنوبی کوریا کے مستقبل پر اثرات
صدر کی برطرفی کے بعد، جنوبی کوریا میں سیاسی ماحول غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔ تاہم، نئے انتخابات کے اعلان کے بعد سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔ عوام اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اگلا صدر کون ہوگا اور وہ ملک میں استحکام اور جمہوریت کے فروغ کے لیے کیا اقدامات کرے گا۔
نتیجہ
جنوبی کوریا کی آئینی عدالت کا یہ فیصلہ ملک کی جمہوری تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف آئین کی بالادستی کو تقویت ملی ہے، بلکہ یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ کوئی بھی حکمران غیر آئینی اقدامات کے ذریعے اقتدار پر قابض نہیں رہ سکتا۔اب تمام نظریں آئندہ ہونے والے صدارتی انتخابات پر ہیں، جو جنوبی کوریا کے سیاسی مستقبل کا تعین کریں گے۔